
قادیانی غنڈوں کے ہاتھوں بہیمانہ تشدد سے شہید ہونے والے محمد امجد رضوی شہید کی نماز جنازہ اتوار کی شب بہاولنگر کے علاقے ڈاہرانوالہ میں ادا کر دی گئی۔ قبل ازیں قادیانی (عرف مرزائی) غنڈوں نے محمد امجد رضوی کو ہفتے کی شام ان کے گھر میں بہیمانہ جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے واقعے کی مذمت کی جبکہ پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج نہ کرنے سمیت مکمل بے حسی کا مظاہرہ کیا گیا۔ جس پر ٹی ایل پی بہاولپور کو دھرنا دینا پڑا جس کے بعد مقامی پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے اور ڈاہرانوالہ میں قادیانی عبادت گاہ سے اسلامی شعائر گرانے پر رضامندی ظاہر کی۔ محمد امجد رضوی شہید کی نماز جنازہ قادیانی عبادت گاہ سے اسلامی شعائرگرانے کے بعد اتوار کی شب کو ادا کر دی گئی۔
محمد امجد رضوی نے چند ماہ قبل ایک ختم نبوت کانفرنس منعقد کرنے کی کوشش کی، جو ان کے گاؤں کے قادیانی غنڈوں کی دھمکیوں کے بعد صرف اپنے گھر تک محدود رہی۔ وہ قادیانی گروہ اپنی عبادت گاہ پر اسلامی شعائر کا استعمال کر رہا تھا اور رمضان المبارک میں اپنے گند خانے میں نماز تراویح کا بھی اہتمام کر رہا تھا جس کی وجہ سے کشیدگی کی ایک تازہ لہر پیدا ہو گئی۔ جب محمد امجد رضوی شہید دونوں گروپوں کے درمیان جھگڑے کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے دونوں گروپوں کو اپنےگھر لے گئے تو قادیانی غنڈوں نے انہیں غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ جام شہادت نوش کر گئے۔
ابھی سائن اپ کریں اور تحریک لبیک پاکستان سے متعلق تمام تازہ ترین معلومات اپنی ای میل میں حاصل کریں
آپ کسی بھی وقت یہ سروس معطل کرسکتے ہیں