منشور

اسلام کی سربلندی، پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی
  1. حضور نبی رحمت ﷺ کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق عوام الناس کی خدمت کی جائے گی اور آئین و دستور پاکستان کا عملی نفاذ یقینی بنایا جائے گا، قول و فعل کے تضاد سے دور رہ کر سچائی کو اپنایا جائے گا تا کہ نظام مصطفی ﷺ قائم کیا جا سکے، آئین پاکستان کے مطابق وفاقی و صوبائی اسمبلیوں کو حقیقی قانون ساز ادارے بنائیں گے قانون سازی اسلام کی سربلندی، پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لئے ہوگی، اسلام کی رو سے آئین پاکستان کے تحت اقلیتوں کو حاصل حقوق کا ہر طرح سے تحفظ کیا جائے گا نیز پسماندہ علاقوں اور صوبوں کا احساس محرومی ختم کرنے کے لئے سرکاری اختیارات اور وسائل مرکز سے تدریجا یونین کونسل تک منتقل کیے جائیں گے۔
  2. تحفظ ناموس رسالت و عقیدہ ختم نبوت اور تحفظ ناموس صحابہ و اہل بیت و دیگر مقدسات اسلام کی عزت کے تحفظ کے لئے تمام اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ فرقہ واریت کا خاتمہ ہو نیز اس متعلق ضروری مواد تعلیمی اداروں میں شامل نصاب کروایا جائے گا تاکہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کو نت نئے فتنوں بالخصوص الحاد، بد مذہبیت اور قادیانیت کے شر سے بچایا جا سکے۔
  3. فلسطین، کشمیر اور پوری دنیا کے مظلوم مسلمانوں کی بلا تاخیر ہر طرح سے معارنت کرنے کے لئے اسلامی ممالک کو منظم کر کے "عالمی اسلامی بلاک" بنایا جائے گا تاکہ معاشی اور عسکری طور پر کمزور اسلامی ممالک اور مظلوم مسلمانوں کی جان و مال کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ نیز آزاد خارجہ پالیسی وضع کی جائے گی، دنیا بھر میں پاکستان کے وقار کو بلند کرنے کے لئے تمام ممالک سے برابری کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات مزید مضبوط اور بھارت کے ساتھ عدم بالا دستی کی بنیاد پر تعلقات قائم کیے جائیں گے، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرارداد اور کشمیری بھائیوں کی خواہش کے مطابق حل کروانے کے لئے جدوجہد کی جائے گی، اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ حجاز مقدس اور قبلہ اول کی حفاظت ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔
  4. پاک فوج کو جدید ٹیکنالوجی کے حامل اسلحہ سے لیس رکھنے میں غفلت نہیں برتی جائے گی، ایٹمی اثاثہ جات کی حفاظت اور ہر طرح کی دفاعی صلاحیتوں میں جدت اور اضافہ کے لئے کسی بھی طرح کے دباو کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔
  5. عدل و احتساب کو نظام دور فاروقی کو آئیڈیل بنا کر نافذ کیا جائے گا، عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کرنے کے لئے مقامی پنچائتی نظام متعارف کروایا جائے گا، غریب شہریوں کو مفت وکیل فراہم کیے جائیں گے، تمام پاکستانیوں کو جلد حصول انصاف کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے نیز عدل و انصاف میں تاخیر کو سنگین جرم قرار دیا جائے گا۔
  6. اسلامی حدود و تعزیرات کے ذریعے اور قانون نافذ کرنے والے سیکیورٹی اداروں کو آئین کے مطابق اختیارات دے کر امن و امان کا نفاذ یقینی بنایا جائے گا، تمام اداروں سے سیاسی اثر و رسوخ کا مکمل خاتمہ اور فرنگی دور کے قوانین میں اصلاحات کر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اخلاقی و سماجی تاثر کو بہتر بنایا جائے گا نیز اندرون ملک اسلام و پاکستان دشمن سازشوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور دینی امور، سیاست، صحت، تعلیم، معاشرت اور دیگر تمام شعبہ جات میں بیرونی مداخلت کا خاتمہ کیا جائے گا۔
  7. سودی نظام معیشیت کا خاتمہ کیا جائے گا اور اسلامی نظام معیشیت بتدریج رائج کیا جائے گا، تمام بینکوں، اداروں، افراد پر سودی لین دین کی صورت میں سخت دفعات لگائی جائیں گی، اس معاملے پر کڑی نگرانی رکھی جائے گی نیز کاروبار کے خواہشمند افراد کو بلا سود آسان اقساط پر قرضے دیے جائیں گے۔
  8. تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر اندرونی و بیرونی قرضوں کا بتدریج خاتمہ کیا جائے گا نیز اخراجات کو آمدن سے کم رکھنے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں گے، ہر قسم کی اسمگلنگ کو پوری طاقت سے روکا جائے گا نیز خسارے میں چلنے والے اداروں کا مالی آڈٹ کر کے لٹیروں سے وصولی یقینی بناتے ہوئے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا اور نقصان پورا نہ ہونے کی صورت میں بتدریج نجکاری کر دی جائے گی۔ اس سلسلے میں بیرونی سرمایہ کاری کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔
  9. حکمران اور ہر شعبے کے بااختیار افراد کے لئے سادہ طرز زندگی کے قوانین بنائے جائیں گے، پروٹوکولز ختم کیے جائیں گے، تنخواہوں میں آسمان و زمین کا فرق ختم کیا جائے گا، غیر ضروری مراعات کو فوری طور پر ختم کیا جائے گا، افسر شاہی کو آئین و قانون کے مطابق عوام کا خادم بنایا جائے گا اور رشوت، سفارش، سیاسی مداخلت اور اقربا پروری کو سنگین جرائم کی فہرست میں شامل کیا جائے گا نیز بااختیار لوگوں کی جانچ اور مالیاتی احتساب کے لئے ایک آزاد ادارہ قائم کیا جائے گا جو کڑا احتساب اور فوری فیصلے کرے گا۔
  10. بنیادی ضروریات جیسے سستی بجلی، گیس، صاف پانی ہر شخص کو فراہم کرنا اسلامی حکومت کی اولین ذمہ داری ہوگی اور بے گھر افراد کو رہائش فراہم کرنے کے لئے موثر اقدامات اٹھائے جائیں گے اس سلسلے میں قابل عمل وسیع تر منصوبے کا اعلان کیا جائے گا۔
  11. اعلی معیار کے اسلامک اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز قائم کی جائیں گی، فروغ تعلیم کے لئے بجٹ کا ایک معقول حصہ رکھا جائے گا، تمام سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی اداروں میں بامقصد دور حاضر کی ضروریات کے عین مطابق جدید اور یکساں ںظام و نصاب رائج کیا جائے گا، حصول تعلیم ہر بچے کا حق ہوگا، خواتین کے لئے علیحدہ کالجز اور یونیورسٹیز قائم کی جائیں گی، صاحب حثیت افراد کے بچے مناسب فیس اور مستحق افراد کے بچے مفت تعلیم حاصل کریں گے، غیر سرکاری تعلیمی اداروں کی فیس سرکاری منظور شدہ معیاد و شرائط کے تحت مقرر کی جائے گی۔
  12. سرکاری ملازمت کے لئے تعلیمی قابلیت اور پیشہ وارانہ مہارت کو معیار بنایا جائے گا جبکہ اقربا پروری، رشوت خوری اور سیاسی مداخلت پر سزائیں نافذ کی جائیں گی۔
  13. زراعت کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور اس شعبہ سے وابستہ افراد کے لئے نہری پانی مفت جبکہ بجلی، کھاد، اعلی قسم کے بیج، زرعی ادویات اور آلات زراعت انتہائی سستے کر دیے جائیں گے، کسانوں کو روزانہ کی بنیاد پر سرکاری نرخوں کے متعلق آگاہی دی جائے گی، ان کی شب و روز کی محنت پر کسی مڈل مین کو ڈاکہ نہیں مارنے دیں گے۔
  14. صنعتوں کے لئے مہنگی گیس و بجلی، ہوشربا ٹیکس ختم کرکے سستی ترین گیس و بجلی اور کم ٹیکس کا نظام دینگے، سرکاری پالیسیاں تجارت و تاجر دوست ہوں گی، ہر شعبہ میں برآمدات بڑھانے کے لئے بھر پور کوششیں کی جائیں گی نیز آئی ٹی کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جائے گی، دلچسپی رکھنے والے افراد کو آئی ٹی کی مفت تعلیم دی جائے گی، آئی ٹی کے شعبے میں برآمدات بڑھانے کے لئے آسان اور فوری قابل عمل پالیسی بنائی جائے گی تاکہ اس شعبے کے ہنر مند افراد کے ذریعے زر مبادلہ کے کثیر ذخائر پاکستان لائے جا سکیں، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پوری قوم کو صنعت و تجارت کی تمام انواع و اقسام کی تربیت فراہم کی جائے گی اور جدید علوم سے مزین اعلی تعلیم یافتہ ہنر مند نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں کے بجائے باوقار ذاتی روزگار کے لئے بھر پور معاونت فراہم کی جائے گی۔
  15. آبی وسائل کے ذخیرہ کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی اسکے لئے ملک کے طول و عرض میں چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر فوری شروع کی جائے گی، پانی کی منصفانہ تقسیم کا اہتمام کیا جائے گا، بحری وسائل سے آمدن بڑھانے کے لئے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی نیز فش فارمنگ اور کیٹل فارمنگ سے برآمدات بڑھانے کے لئے منصوبہ بندی کی جائے گی۔
  16. پاکستان کے تمام معدنی وسائل وفاق کے زیر انتظام ہونگے، جس کے لئے سالانہ بنیاد پر ٹینڈر سسٹم متعارف کروایا جائے گا جس میں ملک و بیرون ملک سے برابری کی بنیاد پر پیشکش لی جائیں گی۔
  17. ٹیکس نظام میں فوری اصلاحات کی جائیں گی اور اس سے محکمہ جاتی رشوت ستانی، بلیک میلنگ اور ہراسانی کا خاتمہ کیا جائے گا، عوام پر ٹیکس کا بوجھ کم سے کم کیا جائے گا، نظام زکوۃ و عشر کو فوری رائج کیا جائے گا نیز اوقاف کے زیر انتظام مساجد و مزارات سے وصول آمدنی کو شرعی اصولوں کی روشنی میں مسلمانوں کے دینی مقاصد و مفادات میں صرف کیا جائے گا اور سالانہ و ماہانہ آمدن و خرچ کا مکمل حساب عوام الناس کے سامنے رکھا جائے گا نیز خدمت خلق کے نجی اداروں کے مالی وسائل ملکی و عوامی مفاد کے مطابق خرچ کیے جائیں گے اور کسی بھی نجی ادارو کے وسائل کی بنیاد پر ملکی و ملی مفادات کو کچلنے کی اجازت قطعا نہیں دی جائے گی۔
  18. حقوق نسواں کے تحفظ کے لئے خصوصی ادارہ قائم کیا جائے گا اور وراثت وغیرہ میں انہیں انکا شرعی و قانونی حق دلایا جائے گا، اسی طرح خواتین پر ظلم و زیادتی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
  19. گلیوں، سڑکوں، شاہراہوں، سرکاری اور غیر سرکاری عمارتوں، عوام الناس کی آمد و رفت کے مقامات، باغات و تفریحی مقامات کی صفائی پر خصوصی توجہ دی جائے گی اس سلسلے میں نچلی سطح پر موجود بلدیاتی نظام کو با اختیار بنایا جائے گا۔
  20. حکومتی سطح پر شہروں، آبادیوں اور سڑکوں، پلوں کی تعمیرات کا جامع پلان بنایا جائے گا، تعمیراتی قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے گا اور اس سلسلے میں منصفانہ تقسیم اولین ترجیح ہوگی، نظام نکاس میں موجود رکاوٹوں کو ختم کیا جائے گا نیز سڑکوں اور گلیوں کی چوڑائی کے قانون پر سختی سے عمل کروایا جائے گا تاکہ آمد و رفت میں وقت کے ضیاع سے بچا جا سکے۔
  21. صحت کے لئے بجٹ کا معقول حصہ رکھا جائے گا، نادار اور مستحق مریضوں کا مکمل علاج مفت ہوگا، سرکاری ہسپتالوں کی تعداد بڑھائی جائے گی نیز نجی ہسپتالوں کو معیار کے مطابق سرکار سے منظور شدہ فیس لینے کا پابند بنایا جائے گا، حفظان صحت کے اصولوں کو سختی سے نافذ کیا جائے گا اور کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات میں ملاوٹ پر سخت سزا دی جائے گی نیز وبائی امراض کو پھیلنے سے روکنے کے لئے پیشگی اقدامات کیے جائیں گے۔
  22. ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لئے تمام اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے، شجرکاری کو سرکاری سطح پر فروغ دیا جائے گا، آلودگی کا سبب بننے والی صنعتوں، اداروں پر سخت قوانین کا اطلاق کیا جائے گا۔
  23. عوام الناس کو بھلائی کی طرف بلانے اور برائی سے روکنے کے لئے ایک با اختیار وزارت قائم کی جائے گی تاکہ حکمت و دانائی کے ساتھ معاشرتی برائیوں کا خاتمہ کیا جا سکے نیز مزارات، آستانوں، خانقاہوں سے ملحقہ مقامات پر کمینٹی سینٹر قائم کیے جائیں گے جہاں لا چار افراد، بے سہارا خواتین، بیواوں، یتیوں، معذوروں کے لئے رہائش اور کھانے پینے کا انتظام ہوگا نیز ان کی اعلی اخلاقی تعلیم و تربیت کا اہتمام یقینی بنایا جائے گا نیز جیلوں میں موجود قیدیوں کی اخلاقی، نفسیاتی اور معاشرتی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے گی مزید یہ کہ انہیں مختلف ماہرین کی خدمات لے کر ہنر مند بنایا جائے گا۔
  24. ذرائع ابلاغ کو دینی، ملکی و ملی مسائل کا حل پیش کرنے اور لوگو کی فکری، اخلاقی اور عملی تربیت کا پابند بنایا جائے گا تاکہ انہیں فحاشی و عریانی سے بچایا جا سکے، میڈیا و سوشل میڈیا کو ضابطہ اخلاق کا پابند بنایا جائے گا، نیز ایسے پروگرام ترتیب دیے جائیں گے جن سے عوام الناس کو اسلامی تاریخ سے روشناس کروایا جا سکے نیز انہیں ملکی ترقی و خوشحالی میں کردار ادا کرنے اور اقوام عالم میں ہونے والی تبدیلیوں اور پچیدگیوں کے بارے میں آگاہی دی جائے گی۔
  25. ملک کے طول و عرض میں سیاحت کے شعبے کے فروغ کے لئے خصوصی کاوشیں کی جائیں گی اور ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی حفاظت، سستی رہائش، معیاری کھانا اور دیگر ضروریات کا خیال رکھا جائے گا۔